یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھا

Kaifi Sanbhali

یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھا

لیکن شجر تھا میں تو اجڑنا ضرور تھا

اب مضطرب ہیں لمس سے محروم انگلیاں

بچپن میں تتلیوں کو پکڑنا ضرور تھا

تقدیر میں بھی لکھا تھا اک پیاس کا سفر

دریا بھی میری راہ میں پڑنا ضرور تھا

رہتے بھی کتنی دیر ہواؤں کے دوش پر

ہر تیر کو زمین پہ گرنا ضرور تھا

کیفیؔ ہمیں بھی کچھ تو مسافت کا علم تھا

اک سنگ میل راہ میں گڑنا ضرور تھا