آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لی

Kaifi Sanbhali

آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لی

سر نے ہمارے قوت خنجر خرید لی

کچھ زندگی کی خاص ضرورت نہ تھی مگر

قدموں کی تیرے خاک سمجھ کر خرید لی

جادوگری ان آنکھوں کی مت پوچھئے حضور

اک پل میں شورش دل مضطر خرید لی

میلے سے بندے بال پنیں کچھ نہیں لئے

میری غیور بیٹی نے چادر خرید لی

کیفیؔ میں اس پہ موت کو ترجیح کیوں نہ دوں

وہ زندگی جو جان بچا کر خرید لی