دل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میں
Babar Zuhrabدل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میں
تنہائی میں بھی تم کو پکارا کروں گا میں
جو اشک ہجر یار نے بخشا ہے آنکھ کو
کچھ دن میں اس کو اپنا ستارہ کروں گا میں
تب دیکھنا فلک کا بدلتا ہوا مزاج
جب چاند کو زمیں سے اشارا کروں گا میں
کیوں سانس بند ہوں گے مرے میرے حکم سے
کیوں بحر زندگی سے کنارہ کروں گا میں
میں راہ فکر و فن سے دیا لے کے علم کا
گزرا کروں گا خود کو گزارا کروں گا میں
اب مجھ پہ اصل ہار کا مطلب کھلا ہے دوست
اس کھیل میں تو جان کے ہارا کروں گا میں
خلق خدا سنوار سکے تاکہ خد و خال
ظہرابؔ آئنے کو سنوارا کروں گا میں