پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیا

Nabi Bakhsh Nayab

پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیا

آیا نہ یار پاس مرا خواب بھی گیا

توبہ تو کی مگر نہ ہوئی دل کی کم ہوس

لو ہاتھ سے وہ جام مئے ناب بھی گیا

وہ سخت جاں ہوں میں کہ نہ آئی قضا مجھے

معدے میں بارہا مرے زہراب بھی گیا

مسجد میں سر جھکایا جو میں نے پئے نماز

سجدے کے ساتھ ہی خم محراب بھی گیا

سایہ فگن جو سر پہ مرے ابتدا سے تھا

ہے ہے وہ آج گلبن شاداب بھی گیا

یاد آئی ناخدا کو مری نا شناوری

سر پر سے جب گزر مرے سیلاب بھی گیا

آ یار ساتھ ساتھ شب پردہ پوش کے

اب تو فروغ مہر جہاں تاب بھی گیا

جادو خیال یار ہے اے ہم نشیں نہ پوچھ

پاس لحاظ داریٔ احباب بھی گیا

دنیا سے کیسے کیسے جفا کیش اٹھ گئے

ہم شادؔ ہی کو روتے تھے نایابؔ بھی گیا