آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہی

Daud Naseeb

آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہی

دنیا ہمارے حال کو چپ دیکھتی رہی

برسوں ہمارے ساتھ رواں زندگی رہی

آخر کو اجنبی کی وہی اجنبی رہی

تجھ کو جنہوں نے صاحب محفل بنا دیا

محفل میں تیری صرف انہیں کی کمی رہی

بیٹھے تو ایک پیکر فتنہ بنے رہے

اٹھے تو آ کے ساتھ قیامت کھڑی ہوئی

اہل جنوں تو اس سے بھی آگے نکل گئے

منزل کے فاصلوں کو خرد ناپتی رہی

دنیا کو ٹھوکروں میں رکھا جس نے دوستو

قدموں میں ایسے شخص کے دنیا پڑی رہی

خاموش ہم بھی سنتے رہے اپنی داستاں

دنیا بغیر نام لئے بولتی رہی

جب سے غموں کی بھیڑ میں ہم کھو گئے نصیبؔ

اس روز سے خوشی بھی ہمیں ڈھونڈھتی رہی