میں جب توہمات سے یکسر گزر گیا
Daood Kaashmiriمیں جب توہمات سے یکسر گزر گیا
اپنی ہی شکل دیکھ کے کیوں آج ڈر گیا
کل تک جو شور کرتے تھے خاموش ہو گئے
شاید کہ شہر میں کوئی دیوانہ مر گیا
بے عکس آئنہ تو کسی کام کا نہ تھا
پتھراؤ کیوں ہوا کہ وہ ٹوٹا بکھر گیا
راہوں نے آنکھیں موند لیں انجانے خوف سے
اک حادثے کو ساتھ لئے وہ جدھر گیا
حیران ہوں کہ دور سے آیا تھا میرے ساتھ
اپنی کہانی کہہ کے نہ جانے کدھر گیا