کھوئے ہوئے ہیں سر کو جھکائے ہوئے ہیں آپ

Habeeb Jaunpuri

کھوئے ہوئے ہیں سر کو جھکائے ہوئے ہیں آپ

جیسے کہ بار عشق اٹھائے ہوئے ہیں آپ

دل میں کسک نگہ میں جھجک تن میں ارتعاش

رنگینیوں میں آج نہائے ہوئے ہیں آپ

بوٹا سا قد وہ بھولی سی صورت بدن گداز

اف کتنی دل فریبی چھپائے ہوئے ہیں آپ

رنگینئ جہاں میں الجھتی نہیں نگاہ

اللہ کس کو اپنا بنائے ہوئے ہیں آپ

کس کو تلاش کرتی ہے بھٹکی ہوئی نگاہ

کس پر سکون قلب لٹائے ہوئے ہیں آپ

یہ کس کی یاد سینے میں لیتی ہے چٹکیاں

یہ کس کی دھن میں خود کو بھلائے ہوئے ہیں آپ

کس کے لئے یہ آنکھوں میں آنسو جگر میں درد

کس کا خیال دل سے لگائے ہوئے ہیں آپ

آنسو کے کانپتے ہوئے قطرے میں کون ہے

سہمی نظر میں کس کو چھپائے ہوئے ہیں آپ

کس کے بھرے ہیں رنگ یہ قوس حیات میں

کس کو نفس نفس میں چھپائے ہوئے ہیں آپ

کیا مل گئیں حبیبؔ سے آنکھیں خطا معاف

جیسے شکست عشق سے کھائے ہوئے ہیں آپ