Poetry
- آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہےAitbar Sajid
- آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیاکل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیاAitbar Sajid
- بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگکس نگری میں آ نکلے ہیں ساجدؔ ہم دیوانے لوگAitbar Sajid
- بندے زمین اور آسماں سرما کی شب کہانیاںسچی ہیں یہ رفاقتیں باقی ہیں سب کہانیاںAitbar Sajid
- بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھیسہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھیAitbar Sajid
- بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیںآ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیںAitbar Sajid
- پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہےباہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہےAitbar Sajid
- پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھےایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھےAitbar Sajid
- پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئیاب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئیAitbar Sajid
- ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہےAitbar Sajid
- تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیںابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیںAitbar Sajid
- ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھایہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھاAitbar Sajid
- تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دومیں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دوAitbar Sajid
- تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںخطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیںAitbar Sajid
- جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہورات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہوAitbar Sajid
- جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےAitbar Sajid
- چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیںدر بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیںAitbar Sajid
- چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھلوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھAitbar Sajid
- دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میںمچھلیاں جیسے مرتبانوں میںAitbar Sajid
- دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہمیں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہAitbar Sajid
- ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میریخود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میریAitbar Sajid
- رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیااب اختتام باب ضروری سا ہو گیاAitbar Sajid
- زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیاکیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیاAitbar Sajid
- شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پررات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میںAitbar Sajid
- طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائےAitbar Sajid
- کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہےتجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہےAitbar Sajid
- کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیںہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیںAitbar Sajid
- کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیںمگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیںAitbar Sajid
- کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگیکہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگیAitbar Sajid
- کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہےیہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہےAitbar Sajid
- کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہاAitbar Sajid
- گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جاناتم کسی چشم خریدار میں مت آ جاناAitbar Sajid
- مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھااس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھاAitbar Sajid
- مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھامرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھاAitbar Sajid
- مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گااکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گاAitbar Sajid
- محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مریسب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مریAitbar Sajid
- مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہےاسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہےAitbar Sajid
- مری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیںجو سراب ہوں نہ عذاب ہوں وہ رفاقتیں مجھے چاہئیںAitbar Sajid
- میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوںجنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوںAitbar Sajid
- نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کاسو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کاAitbar Sajid
- وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہاکہ اب تو شوق راحت وصال ہی نہیں رہاAitbar Sajid
- وہی ہیں اپنی راتوں کی کتھائیںفراق یار خواب آور دوائیںAitbar Sajid
- یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہماب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہمAitbar Sajid
- یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیںمگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیںAitbar Sajid
- یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جاخود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جاAitbar Sajid
- یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیںبہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسےAitbar Sajid
- اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہترنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کےAitbar Sajid
- کیسے چلتے سمے وہ روئیگلے سے لگ کر بلک بلک کرAitbar Sajid
- ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیںسب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئےAitbar Sajid
- ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیںدیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کےAitbar Sajid