Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہےAitbar Sajid
  2. آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیاکل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیاAitbar Sajid
  3. بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگکس نگری میں آ نکلے ہیں ساجدؔ ہم دیوانے لوگAitbar Sajid
  4. بندے زمین اور آسماں سرما کی شب کہانیاںسچی ہیں یہ رفاقتیں باقی ہیں سب کہانیاںAitbar Sajid
  5. بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھیسہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھیAitbar Sajid
  6. بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیںآ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیںAitbar Sajid
  7. پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہےباہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہےAitbar Sajid
  8. پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھےایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھےAitbar Sajid
  9. پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئیاب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئیAitbar Sajid
  10. ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہےAitbar Sajid
  11. تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیںابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیںAitbar Sajid
  12. ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھایہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھاAitbar Sajid
  13. تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دومیں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دوAitbar Sajid
  14. تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںخطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیںAitbar Sajid
  15. جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہورات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہوAitbar Sajid
  16. جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےAitbar Sajid
  17. چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیںدر بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیںAitbar Sajid
  18. چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھلوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھAitbar Sajid
  19. دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میںمچھلیاں جیسے مرتبانوں میںAitbar Sajid
  20. دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہمیں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہAitbar Sajid
  21. ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میریخود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میریAitbar Sajid
  22. رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیااب اختتام باب ضروری سا ہو گیاAitbar Sajid
  23. زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیاکیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیاAitbar Sajid
  24. شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پررات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میںAitbar Sajid
  25. طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائےAitbar Sajid
  26. کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہےتجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہےAitbar Sajid
  27. کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیںہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیںAitbar Sajid
  28. کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیںمگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیںAitbar Sajid
  29. کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگیکہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگیAitbar Sajid
  30. کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہےیہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہےAitbar Sajid
  31. کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہاAitbar Sajid
  32. گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جاناتم کسی چشم خریدار میں مت آ جاناAitbar Sajid
  33. مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھااس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھاAitbar Sajid
  34. مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھامرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھاAitbar Sajid
  35. مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گااکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گاAitbar Sajid
  36. محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مریسب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مریAitbar Sajid
  37. مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہےاسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہےAitbar Sajid
  38. مری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیںجو سراب ہوں نہ عذاب ہوں وہ رفاقتیں مجھے چاہئیںAitbar Sajid
  39. میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوںجنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوںAitbar Sajid
  40. نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کاسو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کاAitbar Sajid
  41. وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہاکہ اب تو شوق راحت وصال ہی نہیں رہاAitbar Sajid
  42. وہی ہیں اپنی راتوں کی کتھائیںفراق یار خواب آور دوائیںAitbar Sajid
  43. یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہماب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہمAitbar Sajid
  44. یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیںمگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیںAitbar Sajid
  45. یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جاخود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جاAitbar Sajid
  46. یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیںبہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسےAitbar Sajid
  47. اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہترنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کےAitbar Sajid
  48. کیسے چلتے سمے وہ روئیگلے سے لگ کر بلک بلک کرAitbar Sajid
  49. ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیںسب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئےAitbar Sajid
  50. ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیںدیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کےAitbar Sajid