تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

Aitbar Sajid

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

خطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں

ہمارا مسئلہ فقط قلم دوات ہی نہیں

ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیں

ہمارے سامنے فقط ہماری ذات ہی نہیں

ورق ورق پہ ڈائری میں آنسوؤں کا نم بھی ہے

یہ صرف بارشوں سے بھیگے کاغذات ہی نہیں

کہانیوں کا روپ دے کے ہم جنہیں سنا سکیں

ہماری زندگی میں ایسے واقعات ہی نہیں

کسی کا نام آ گیا تھا یوں ہی درمیان میں

اب اس کا ذکر کیا کریں جب ایسی بات ہی نہیں