شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پر
Aitbar Sajidشہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پر
رات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میں
قصر عمر گواہی دے گا کیسے کیسے کرب سہے
کیسی کیسی رت گزری ہے ہم پر اتنے سالوں میں
دوش خلا سے خاک زمیں پر اترے تو احساس ہوا
تارے بانٹنے والے راہی پڑ گئے کن جنجالوں میں
لے آئی کس قریۂ شب میں اک جھوٹے مہتاب کی چاہ
سایہ سایہ بھٹک رہا ہوں بے تنویر اجالوں میں
موسم موسم یہی رہا گر خوشبو کی تحقیر کا رنگ
سیسے کی کلیاں پھوٹیں گی اب لوہے کی ڈالوں میں
ساجدؔ اب تک بھگت رہے ہیں اک بے انت سزا کی عمر
اپنا نام لکھا بیٹھے تھے اک دن جینے والوں میں