رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

Aitbar Sajid

رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

اب اختتام باب ضروری سا ہو گیا

ہم چپ رہے تو اور بھی الزام آئے گا

اب کچھ نہ کچھ جواب ضروری سا ہو گیا

ہم ٹالتے رہے کہ یہ نوبت نہ آنے پائے

پھر ہجر کا عذاب ضروری سا ہو گیا

ہر شام جلد سونے کی عادت ہی پڑ گئی

ہر رات ایک خواب ضروری سا ہو گیا

آہوں سے ٹوٹتا نہیں یہ گنبد سیاہ

اب سنگ آفتاب ضروری سا ہو گیا

دینا ہے امتحان تمہارے فراق کا

اب صبر کا نصاب ضروری سا ہو گیا