چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

Aitbar Sajid

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ

فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے

ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ

گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر

اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ

اب کے یہ سوچ کے تم زخم جدائی دینا

دل بھی بجھ جائے گا ڈھلتی ہوئی اس رات کے ساتھ

تم وہی ہو کہ جو پہلے تھے مری نظروں میں

کیا اضافہ ہوا ان اطلس و بانات کے ساتھ

اتنا پسپا نہ ہو دیوار سے لگ جائے گا

اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ

بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں میں کچھ پھول

اس قدر کس کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ