پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی

Aitbar Sajid

پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی

اب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئی

موسم تھا نمائش کا مگر آنکھ نہ کھولی

جاناں ترے زخموں کو سیاست نہیں آئی

جو روح سے آزار کی مانند لپٹ جائے

ہم پر وہ گھڑی اے شب وحشت نہیں آئی

اے دشت انا الحق ترے قربان ابھی تک

وہ منزل اظہار صداقت نہیں آئی

ہم لوگ کہ ہیں ماؤں سے بچھڑے ہوئے بچے

حصے میں کسی کے بھی محبت نہیں آئی

ہم نے تو بہت حرف تری مدح میں سوچے

افسوس کہ سنوائی کی نوبت نہیں آئی

لرزے بھی نہیں شہر کے حساس در و بام

دل راکھ ہوئے پھر بھی قیامت نہیں آئی

ساجدؔ وہ سحر جس کے لئے رات بھی روئی

آئی تو سہی حسب ضرورت نہیں آئی