پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

Aitbar Sajid

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے

سب خرد مند بنے پھرتے تھے ماشاء اللہ

بس ترے شہر میں اک صاحب وحشت ہم تھے

نام بخشا ہے تجھے کس کے وفور غم نے

گر کوئی تھا تو ترے مجرم شہرت ہم تھے

اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو

وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

دھوپ کے دشت میں کتنا وہ ہمیں ڈھونڈتا تھا

اعتبارؔ اس کے لیے ابر کی صورت ہم تھے