چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں
Aitbar Sajidچھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں
در بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیں
اپنی مجروح اناؤں کو دلاسے دے کر
ہاتھ میں کاسۂ خیرات لیے پھرتے ہیں
شہر میں ہم نے سنا ہے کہ ترے شعلہ نوا
کچھ سلگتے ہوئے نغمات لیے پھرتے ہیں
مختلف اپنی کہانی ہے زمانے بھر سے
منفرد ہم غم حالات لیے پھرتے ہیں
ایک ہم ہیں کہ غم دہر سے فرصت ہی نہیں
ایک وہ ہیں کہ غم ذات لیے پھرتے ہیں