دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہ

Aitbar Sajid

دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہ

میں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہ

گئے دنوں کی تصویروں کے بجھتے ہوئے نقوش

تازہ ترک تعلق کے صدمات اکیلا کمرہ

دوش ہوا پر اڑنے والے خزاں کے آخری پتے

اپنی اکیلی جان غم حالات اکیلا کمرہ

آخری شب کے چاند سے کرنا بالکنی میں باتیں

اس کے شہر میں ہوٹل کی یہ رات اکیلا کمرہ

میری سسکتی آوازوں سے گونجتی ہیں دیواریں

سنتا ہے دن رات مرے نغمات اکیلا کمرہ

سب سامان بہم ہیں ساجدؔ لکھنے لکھانے کے

خون جگر اور آنسو دل کی دوات اکیلا کمرہ