کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیں
Aitbar Sajidکسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیں
مگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیں
ہزار ہم نے ضبط سے لیا تھا کام کیا کریں
کسی کے آنسوؤں نے پھر رلا کے رکھ دیا ہمیں
ہماری شہرتیں خراب اس طرح بھی اس نے کیں
کہ اپنے آشناؤں سے ملا کے رکھ دیا ہمیں
ہمیں اس انجمن میں جانے اس نے کیوں بلا لیا
بلا لیا اور اک طرف بٹھا کے رکھ دیا ہمیں
فقط ہم ایک دیکھنے کی چیز بن کے رہ گئے
کسی نے ایسا عشق میں بنا کے رکھ دیا ہمیں
ہم اعتبارؔ اس کی ہر شکست میں شریک تھے
مگر بساط سے الگ اٹھا کے رکھ دیا ہمیں