ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے
Aitbar Sajidترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے
ایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہے
شاید اس نے ہنسی ہنسی میں ترک وفا کا ذکر کیا ہو
یونہی سی اک خوش فہمی ہے اطمینان ابھی باقی ہے
راتیں اس کے ہجر میں اب بھی نزع کے عالم میں کٹتی ہیں
دل میں ویسی ہی وحشت ہے تن میں جان ابھی باقی ہے
بچپن کے اس گھر کے سارے کمرے ملیا میٹ ہوئے
جس میں ہم کھیلا کرتے تھے وہ دالان ابھی باقی ہے
دیئے منڈیر پہ رکھ آتے ہیں ہم ہر شام نہ جانے کیوں
شاید اس کے لوٹ آنے کا کچھ امکان ابھی باقی ہے
ایک عدالت اور ہے جس میں ہم تم اک دن حاضر ہوں گے
فیصلہ سن کر خوش مت ہونا اک میزان ابھی باقی ہے