کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے

Aitbar Sajid

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے

تجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہے

مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم

یہ ہوائے شام ہجراں مجھے راس ہے تو کیوں ہے

تجھے کھو کے سوچتا ہوں مرے دامن طلب میں

کوئی خواب ہے تو کیوں ہے کوئی آس ہے تو کیوں ہے

میں اجڑ کے بھی ہوں تیرا تو بچھڑ کے بھی ہے میرا

یہ یقین ہے تو کیوں ہے یہ قیاس ہے تو کیوں ہے

مرے تن برہنہ دشمن اسی غم میں گھل رہے ہیں

کہ مرے بدن پہ سالم یہ لباس ہے تو کیوں ہے

کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر

بہت اپنی شاعری میں جو اداس ہے تو کیوں ہے

ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبارؔ ساجد

یہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ہے تو کیوں ہے