کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
Aitbar Sajidکیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا
آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی
نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا
کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی
اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا
رستے مہہ و نجوم کے تبدیل ہو گئے
ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا
سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے
کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا
ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں
یا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا
تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہو
اک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا