دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میں
Aitbar Sajidدل ہیں یوں مضطرب مکانوں میں
مچھلیاں جیسے مرتبانوں میں
دھوپ سے ڈھونڈتے ہیں راہ فرار
لوگ شیشے کے سائبانوں میں
بے ارادہ کلام کی خواہش
بے سبب لکنتیں زبانوں میں
تیری آمد پہ جیسے لوٹ آیا
وقت گزرے ہوئے زمانوں میں
دل دھڑکتا ہے ہر ستارے کا
آج کی رات آسمانوں میں
زنگ آلود ہو گئے جذبی
جم گئے حرف سرد خانوں میں
ریشمی لوگ ڈھونڈتے ہیں ہم
شہر کے آہنی مکانوں میں