ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

Aitbar Sajid

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

یہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا

میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترک

اسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا

فقط ایک دھن تھی کہ رات دن اسی خواب زار میں گم رہیں

وہ سرور ایسا سرور تھا وہ خمار ایسا خمار تھا

کبھی لمحہ بھر کی بھی گفتگو مری اس کے ساتھ نہ ہو سکی

مجھے فرصتیں نہیں مل سکیں وہ ہوا کے رتھ پہ سوار تھا

ہم عجیب طرز کے لوگ تھے کہ ہمارے اور ہی روگ تھے

میں خزاں میں اس کا تھا منتظر اسے انتظار بہار تھا

اسے پڑھ کے تم نہ سمجھ سکے کہ مری کتاب کے روپ میں

کوئی قرض تھا کئی سال کا کئی رت جگوں کا ادھار تھا