Poetry
- آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونایاد کر اے دل خاموش وہ اپنا روناAhmad Mushtaq
- اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہمیعنی دل سکوت میں گھر کر رہے ہیں ہمAhmad Mushtaq
- اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیےعشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیےAhmad Mushtaq
- اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیںکون رہتا تھا کہاں یاد نہیںAhmad Mushtaq
- اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھاپھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھاAhmad Mushtaq
- اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھیباہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھیAhmad Mushtaq
- ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہمہنستے رہیں گے شور مچاتے رہیں گے ہمAhmad Mushtaq
- بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گاآنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گاAhmad Mushtaq
- بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میںبجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میںAhmad Mushtaq
- بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتےکوئی در کوئی دریچہ نہیں رہنے دیتےAhmad Mushtaq
- بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میںاب جہاں کوئی نہیں رہتا وہاں رہتا ہوں میںAhmad Mushtaq
- پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہےیہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہےAhmad Mushtaq
- پتا اب تک نہیں بدلا ہماراوہی گھر ہے وہی قصہ ہماراAhmad Mushtaq
- تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوںتمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوںAhmad Mushtaq
- تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھاجانے وہ کس خیال میں تھا کس سمے میں تھاAhmad Mushtaq
- تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میںبرق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میںAhmad Mushtaq
- چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیادل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیاAhmad Mushtaq
- چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلےمجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلےAhmad Mushtaq
- چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلےبند کمروں سے ترے درد کے مارے نکلےAhmad Mushtaq
- چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سےدل بہلتے ہیں کہیں حوصلہ افزائی سےAhmad Mushtaq
- خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیںخون ٹھنڈا پڑ گیا آنکھیں پرانی ہو گئیںAhmad Mushtaq
- خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونایہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہوناAhmad Mushtaq
- دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہےاب تپ ہجر توقع سے بھی کم رہتا ہےAhmad Mushtaq
- دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہےیہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہےAhmad Mushtaq
- دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتادریا میں اتر جائیں تو دریا نہیں ملتاAhmad Mushtaq
- روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھااب جہاں دیوار ہے پہلے وہاں دروازہ تھاAhmad Mushtaq
- زلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھاسچ بتا دیکھنے والے اسے کیسا دیکھاAhmad Mushtaq
- زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گےرنگ گل اور بوئے گل دونوں ہوا ہو جائیں گےAhmad Mushtaq
- شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیںکب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیںAhmad Mushtaq
- شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیںوہ دوپہروں کی خموشی وہ ہماری باتیںAhmad Mushtaq
- شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیاہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیاAhmad Mushtaq
- عشق میں کون بتا سکتا ہےکس نے کس سے سچ بولا ہےAhmad Mushtaq
- کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتااک خواب محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتاAhmad Mushtaq
- کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہےکہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہےAhmad Mushtaq
- کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھینہ کسی کا دامن چاک تھا نہ کسی کی طرف کلاہ تھیAhmad Mushtaq
- کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میںابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میںAhmad Mushtaq
- کیسے انہیں بھلاؤں محبت جنہوں نے کیمجھ کو تو وہ بھی یاد ہیں نفرت جنہوں نے کیAhmad Mushtaq
- لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میںسبب یہ ہے کہ اک مدت کنارے پر رہا ہوں میںAhmad Mushtaq
- مجھے اس نے تری خبر دی ہےجس نے ہر شام کو سحر دی ہےAhmad Mushtaq
- مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گابس یہی نا درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گاAhmad Mushtaq
- مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہےوہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہےAhmad Mushtaq
- منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیاآتی جاتی رہیں شامیں کوئی آیا نہ گیاAhmad Mushtaq
- نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرومیں نہیں کہتا دعا مانگو مناجاتیں کروAhmad Mushtaq
- ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کویہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کوAhmad Mushtaq
- ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہےشاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہےAhmad Mushtaq
- ہمیں سب اہل ہوس ناپسند رکھتے ہیںکہ ہم نوائے محبت بلند رکھتے ہیںAhmad Mushtaq
- یہ تنہا رات یہ گہری فضائیںاسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیںAhmad Mushtaq
- یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لبپکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لبAhmad Mushtaq
- یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کوانہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کوAhmad Mushtaq
- یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں بناتے ہیںہوائے غم کے لیے کھڑکیاں بناتے ہیںAhmad Mushtaq