چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے
Ahmad Mushtaqچاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے
مجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلے
شام ہوتے ہی برسنے لگے کالے بادل
صبح دم لوگ دریچوں میں کھلے سر نکلے
کل ہی جن کو تری پلکوں پہ کہیں دیکھا تھا
رات اسی طرح کے تارے مری چھت پر نکلے
دھوپ ساون کی بہت تیز ہے دل ڈوبتا ہے
اس سے کہہ دو کہ ابھی گھر سے نہ باہر نکلے
پیار کی شاخ تو جلدی ہی ثمر لے آئی
درد کے پھول بڑی دیر میں جا کر نکلے
دل ہنگامہ طلب یہ بھی خبر ہے تجھ کو
مدتیں ہو گئیں اک شخص کو باہر نکلے