یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب
Ahmad Mushtaqیہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب
پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب
یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے
مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب
اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے
وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب
اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں
ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب
یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شاید
کجا وہ ثمرۂ باغ طلب کجا مرے لب