روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
Ahmad Mushtaqروشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
اب جہاں دیوار ہے پہلے وہاں دروازہ تھا
درد کی اک موج ہر خواہش بہا کر لے گئی
کیا ٹھہرتیں بستیاں پانی ہی بے اندازہ تھا
رات ساری خواب کی گلیوں میں ہم چلتے رہے
کھڑکیاں روشن تھیں لیکن بند ہر دروازہ تھا