چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے

Ahmad Mushtaq

چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے

دل بہلتے ہیں کہیں حوصلہ افزائی سے

کیسا روشن تھا ترا نیند میں ڈوبا چہرہ

جیسے ابھرا ہو کسی خواب کی گہرائی سے

وہی آشفتہ مزاجی وہی خوشیاں وہی غم

عشق کا کام لیا ہم نے شناسائی سے

نہ کبھی آنکھ بھر آئی نہ ترا نام لیا

بچ کے چلتے رہے ہر کوچۂ رسوائی سے

ہجر کے دم سے سلامت ہے ترے وصل کی آس

تر و تازہ ہے خوشی غم کی توانائی سے

کھل کے مرجھا بھی گئے فصل ملاقات کے پھول

ہم ہی فارغ نہ ہوئے موسم تنہائی سے