اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی
Ahmad Mushtaqاک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی
باہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھی
ایسے پریشاں تو نہ تھے ٹوٹے ہوئے سناہٹے
جب عشق کی تیرے مرے غم پر بسر اوقات تھی
کچھ تم کہو تم نے کہاں کیسے گزارے روز و شب
اپنے نہ ملنے کا سبب تو گردش حالات تھی
اک خامشی تھی تر بہ تر دیوار مژگاں سے ادھر
پہنچا ہوا پیغام تھا برسی ہوئی برسات تھی
سب پھول دروازوں میں تھے سب رنگ آوازوں میں تھے
اک شہر دیکھا تھا کبھی اس شہر کی کیا بات تھی
یہ ہیں نئے لوگوں کے گھر سچ ہے اب ان کو کیا خبر
دل بھی کسی کا نام تھا غم بھی کسی کی ذات تھی