بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
Ahmad Mushtaqبھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
کوئی در کوئی دریچہ نہیں رہنے دیتے
آسماں پر سے مٹا دیتے ہیں تاروں کا سراغ
ریت پر نقش کف پا نہیں رہنے دیتے
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی
دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
پہلے بھر دیتے ہیں سامان دو عالم دل میں
پھر کسی شے کی تمنا نہیں رہنے دیتے
شہر کوراں میں بھی آئینہ فروش آتے ہیں
بے تجلی کوئی قریہ نہیں رہنے دیتے
طور سینا ہو کہ آتش کدہ سوز نہاں
راکھ رہ جاتی ہے شعلہ نہیں رہنے دیتے