پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے
Ahmad Mushtaqپانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے
یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے
دیوار پر کھلے ہیں نئے موسموں کے پھول
سایہ زمین پر کسی پچھلے مکاں کا ہے
چاروں طرف ہیں سبز سلاخیں بہار کی
جن میں گھرا ہوا کوئی موسم خزاں کا ہے
سب کچھ بدل گیا ہے تہہ آسماں مگر
بادل وہی ہیں رنگ وہی آسماں کا ہے
دل میں خیال شہر تمنا تھا جس جگہ
واں اب ملال اک سفر رائیگاں کا ہے