ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

Ahmad Mushtaq

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو

تھا جو سینے میں چراغ دل پر خوں نہ رہا

چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو

دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں

کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

نگۂ ناز نہ ملتے ہوئے گھبرا ہم سے

ہم محبت نہیں کہنے کے شناسائی کو

دل ہے نیرنگئ ایام پہ حیراں اب تک

اتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو