زلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھا
Ahmad Mushtaqزلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھا
سچ بتا دیکھنے والے اسے کیسا دیکھا
رات ساری کسی ٹوٹی ہوئی کشتی میں کٹی
آنکھ بستر پہ کھلی خواب میں دریا دیکھا
زرد گلیوں میں کھلے سبز دریچے جن میں
دھوپ لپٹی رہی اور سائے کو جلتا دیکھا
کالے کمروں میں کٹی ساری جوانی اس کی
جس نے اے صبح محبت ترا رستا دیکھا
سنتے رہتے تھے کہ یوں ہوگا وہ ایسا ہوگا
لیکن اس کو تو کسی اور طرح کا دیکھا