لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں

Ahmad Mushtaq

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں

سبب یہ ہے کہ اک مدت کنارے پر رہا ہوں میں

یہ جھونکے جن سے دل میں تازگی آنکھوں میں ٹھنڈک ہے

انہی جھونکوں سے مرجھایا ہوا شب بھر رہا ہوں میں

ترے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کو

چمکتی دھوپ میں سائے اکٹھے کر رہا ہوں میں

کوئی کمرہ ہے جس کے طاق میں اک شمع جلتی ہے

اندھیری رات ہے اور سانس لیتے ڈر رہا ہوں میں

مجھے معلوم ہے اہل وفا پر کیا گزرتی ہے

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں