کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی
Ahmad Mushtaqکہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی
نہ کسی کا دامن چاک تھا نہ کسی کی طرف کلاہ تھی
کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے
نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی
دل کم الم پہ وہ کیفیت کہ ٹھہر سکے نہ گزر سکے
نہ حضر ہی راحت روح تھا نہ سفر میں رامش راہ تھی
مرے چار دانگ تھی جلوہ گر وہی لذت طلب سحر
مگر اک امید شکستہ پر کہ مثال درد سیاہ تھی
وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا
اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی