خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں
Ahmad Mushtaqخواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں
خون ٹھنڈا پڑ گیا آنکھیں پرانی ہو گئیں
جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو
اس کی تصویریں بھی اوراق خزانی ہو گئیں
دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کر
جن کو لکھنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں
جو مقدر تھا اسے تو روکنا بس میں نہ تھا
ان کا کیا کرتے جو باتیں ناگہانی ہو گئیں
رہ گیا مشتاقؔ دل میں رنگ یاد رفتگاں
پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں