شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں

Ahmad Mushtaq

شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں

کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں

دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گزری تھی

کب دھندلکا ہوا کب ناؤ چلی یاد نہیں

ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیں

جس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں

ان مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھی

کیسے کھلتی تھی محبت کی کلی یاد نہیں

جسم و جاں ڈوب گئے خواب فراموشی میں

اب کوئی بات بری ہو کہ بھلی یاد نہیں