تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا

Ahmad Mushtaq

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا

جانے وہ کس خیال میں تھا کس سمے میں تھا

کیسے مکاں اجاڑ ہوا کس سے پوچھتے

چولھے میں روشنی تھی نہ پانی گھڑے میں تھا

تا صبح برگ و شاخ و شجر جھومتے رہے

کل شب بلا کا سوز ہوا کے گلے میں تھا

نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈھتا ہوا

شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا