اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم

Ahmad Mushtaq

اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم

یعنی دل سکوت میں گھر کر رہے ہیں ہم

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں

ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

گویا زمین کم تھی تگ و تاز کے لیے

پیمائش نجوم و قمر کر رہے ہیں ہم

کافی نہ تھا جمال رخ سادۂ بہار

زیبائش گیاہ و شجر کر رہے ہیں ہم