اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

Ahmad Mushtaq

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

پھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا

ہم نے اک ہاتھ سے تھاما شب غم کا آنچل

اور اک ہاتھ کو دامان سحر پر رکھا

چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئے

نیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا

جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ

مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا

جاتے موسم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا مشتاقؔ

رہ گیا ساغر گل سبزۂ تر پر رکھا