بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں
Ahmad Mushtaqبھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں
اب جہاں کوئی نہیں رہتا وہاں رہتا ہوں میں
دن ڈھلے کرتا ہوں بوڑھی ہڈیوں سے ساز باز
جب تلک شب ڈھل نہیں جاتی جواں رہتا ہوں میں
کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال
کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں کہاں رہتا ہوں میں
جگمگاتے جاگتے شہروں میں رہتا ہوں ملول
سوئی سوئی بستیوں میں شادماں رہتا ہوں میں
بوتا رہتا ہوں ہوا میں گم شدہ نغموں کے بیج
وہ سمجھتے ہیں کہ مصروف فغاں رہتا ہوں میں