دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے

Ahmad Mushtaq

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے

اب تپ ہجر توقع سے بھی کم رہتا ہے

کبھی شعلے سے لپکتے تھے مرے سینے میں

اب کسی وقت دھواں سا کوئی دم رہتا ہے

کیا خدا جانے مرے دل کو ہوا تیرے بعد

نہ خوشی اس میں ٹھہرتی ہے نہ غم رہتا ہے

رشتۂ تار تمنا نہیں ٹوٹا اب تک

اب بھی آنکھوں میں تری زلف کا خم رہتا ہے

چھوڑ جاتی ہے ہر اک رت کوئی خوشبو کوئی رنگ

نہ ستم رہتا ہے باقی نہ کرم رہتا ہے