شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں
Ahmad Mushtaqشام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں
وہ دوپہروں کی خموشی وہ ہماری باتیں
آنکھیں کھولوں تو دکھائی نہیں دیتا کوئی
بند کرتا ہوں تو ہو جاتی ہیں جاری باتیں
کبھی اک حرف نکلتا نہیں منہ سے میرے
کبھی اک سانس میں کر جاتا ہوں ساری باتیں
جانے کس خاک میں پوشیدہ ہیں آنسو میرے
کن فضاؤں میں معلق ہیں تمہاری باتیں
کس ملاقات کی امید لیے بیٹھا ہوں
میں نے کس دن پہ اٹھا رکھی ہیں ساری باتیں