تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں

Ahmad Mushtaq

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں

برق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میں

باغ کا باغ لہو رنگ ہوا جاتا ہے

وقت مصروف ہے کیسی چمن آرائی میں

شہر ویران ہوئے بحر بیابان ہوئے

خاک اڑتی ہے در و دشت کی پہنائی میں

ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا

اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں

اس تماشے میں نہیں دیکھنے والا کوئی

اس تماشے کو جو برپا ہے تماشائی میں