Poetry
Poet
Meter
- دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کازیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کامردان صفی
- کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلےتم سے نہ ہوں جدا میں جب جان تن سے نکلےمردان صفی
- لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میریدل ہے قابو میں مرا اب نہ طبیعت میریمردان صفی
- مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہمرے دل میں مرا دل دار ہے اللہ اللہمردان صفی
- نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلببجاں رکھتے ہیں اک ہمدم بدل اک یار سے مطلبمردان صفی
- میرے مرشد ہو پیشوا ہو تممیری صورت میں مدعا ہو تممردان صفی
- آنکھ والے سب تھے لیکن دیدہ ور کوئی نہ تھاکارواں بھٹکا ہوا تھا راہ بر کوئی نہ تھاNadim Ashrafi Burhanpuri
- اب مجھے اپنا بنانے کے لئے مت آناپھر کوئی خواب دکھانے کے لئے مت آناNadim Ashrafi Burhanpuri
- جو تیرے نقش کف پا پہ چل گئے ہوتےتو مہر و ماہ سے آگے نکل گئے ہوتےNadim Ashrafi Burhanpuri
- درد پر پیار آیا چوٹ بھی اچھی لگیآج پہلی بار مجھ کو زندگی اچھی لگیNadim Ashrafi Burhanpuri
- دل کو پہلے لہو لہو کرناپھر کسی کی تم آرزو کرناNadim Ashrafi Burhanpuri
- رنج و غم کی جب مرے دل میں فراوانی نہ تھیجی رہا تھا میں مگر جینے میں آسانی نہ تھیNadim Ashrafi Burhanpuri
- زہے نصیب کہ ان کی کوئی خبر آئیاندھیرا دور ہوا روشنی نظر آئیNadim Ashrafi Burhanpuri
- شکایت غم لیل و نہار کیسے کروںمیں خود کو اپنی نگاہوں میں خار کیسے کروںNadim Ashrafi Burhanpuri
- گل میں شفق میں چاند میں تاروں میں کھو گئےوہ ایک آپ ہیں جو ہزاروں میں کھو گئےNadim Ashrafi Burhanpuri
- نہ باہر ہی لگے ہے دل نہ گھر جانے کو جی چاہےسمجھ میں کچھ نہیں آتا کدھر جانے کو جی چاہےNadim Ashrafi Burhanpuri
- ہاں ان سے مری طرز ملاقات الگ ہےیہ درد یہ سوزش یہ خلش اور یہ آنسوNadim Ashrafi Burhanpuri
- ازل سے بس یہی عالم ہے کیا کیا جائےکبھی خوشی ہے کبھی غم ہے کیا کیا جائےNafees Ahmad Sahar
- ایک ہی مضمون کے کتنے ہیں بابخون آنسو چیخ وحشت اضطرابNafees Ahmad Sahar
- تم مرے خواب پریشاں کا اثر دیکھو تومضمحل سارا گلستاں ہے ادھر دیکھو توNafees Ahmad Sahar
- تیرگی ہو تو کیا کرے کوئیشمع بن کر جلا کرے کوئیNafees Ahmad Sahar
- جسم اپنا ہے جاں پرائی ہےبات اب کچھ سمجھ میں آئی ہےNafees Ahmad Sahar
- حکومت ذہن و دل پہ جب سے قائم ہے اندھیروں کیاڑانیں بھول بیٹھی ہیں نئی نسلیں پرندوں کیNafees Ahmad Sahar
- خیال شب کبھی فکر سحر میں رہتا ہےتمام عمر پرندہ سفر میں رہتا ہےNafees Ahmad Sahar
- رہو گے بزم ہستی میں یوں ہی بے دست و پا کب تککرو گے تم زمانے سے مقدر کا گلہ کب تکNafees Ahmad Sahar
- مضطرب اور ہوا ذوق نظر آخر شببند امید کے سب ہو گئے در آخر شبNafees Ahmad Sahar
- نہ گل کھلے ہیں نہ گردش میں جام آیا ہےیہ کیسا اب کے چمن میں نظام آیا ہےNafees Ahmad Sahar
- وہ زندگی مرے نزدیک زندگی نہ ہوئیتمام عمر میسر جسے خوشی نہ ہوئیNafees Ahmad Sahar
- پڑی جو شعلۂ رخ پر نظر میں آگ لگیمثال طور جلا دل جگر میں آگ لگیعنایت اللہ روشن بدایونی
- تری گلی میں ترے جاں نثار بیٹھے ہیںنگاہ لطف کے امیدوار بیٹھے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- خدا کا شکر ادا صبح و شام کرتے ہیںجو خاص بندے ہیں وہ خاص کام کرتے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- دنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیںوہ دن ہی کون سا ہے کہ جو روز غم نہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- زمیں کو سر پہ اٹھائے ہوئے نہ چل غافلاگر ہے ہوش تو ہشیار ہو سنبھل غافلعنایت اللہ روشن بدایونی
- ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیاجگر کو خون کیا دل کو داغدار کیاعنایت اللہ روشن بدایونی
- کس بزم میں شمع تو نہیں ہےکس جا تری گفتگو نہیں ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
- کیفیت دل اور ہے احوال جگر اوراک درد کی صورت ہے ادھر اور ادھر اورعنایت اللہ روشن بدایونی
- مال کچھ شے ہے نہ کچھ صاحب ساماں ہوناباعث فخر ہے انسان کو انساں ہوناعنایت اللہ روشن بدایونی
- وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھارنگ نیرنگ جہاں سے یہ بدلتے دیکھاعنایت اللہ روشن بدایونی
- ہر ایک کا حامی وہ مصیبت میں ہوا ہےجس کا کوئی دنیا میں نہیں اس کا خدا ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
- آتش سوز محبت کو بجھا سکتا ہوں میںدیدۂ پر نم سے اک دریا بہا سکتا ہوں میںQaisar Nizami
- تجھے بھی چین نہ آئے قرار کو ترسےچمن میں رہ کے چمن کی بہار کو ترسےQaisar Nizami
- تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشینظر نواز نظاروں کو تازگی بخشیQaisar Nizami
- تری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہےحیات بخش سہاروں کو نیند آئی ہےQaisar Nizami
- عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھاجلوہ آرا صرف ذات کبریا تھی میں نہ تھاQaisar Nizami
- کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھےتیری نظروں نے بنا ڈالا ہے افسانہ مجھےQaisar Nizami
- محبت باعث دیوانگی ہے اور بس میں ہوںکہ اب پیہم عنایت آپ کی ہے اور بس میں ہوںQaisar Nizami
- محبت کی صہبا پلانے چلا ہوںزمانے کو انساں بنانے چلا ہوںQaisar Nizami
- منحرف مجھ سے اک زمانہ ہےبدنصیبی کا کیا ٹھکانہ ہےQaisar Nizami
- نظام گلشن ہستی بدل کے دم لیں گےحدود رنج و الم سے نکل کے دم لیں گےQaisar Nizami
- نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوںسکوں نصیب سہاروں سے بات کرتا ہوںQaisar Nizami