Poetry

Poet
Meter
  1. دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کازیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کامردان صفی
  2. کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلےتم سے نہ ہوں جدا میں جب جان تن سے نکلےمردان صفی
  3. لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میریدل ہے قابو میں مرا اب نہ طبیعت میریمردان صفی
  4. مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہمرے دل میں مرا دل دار ہے اللہ اللہمردان صفی
  5. نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلببجاں رکھتے ہیں اک ہمدم بدل اک یار سے مطلبمردان صفی
  6. میرے مرشد ہو پیشوا ہو تممیری صورت میں مدعا ہو تممردان صفی
  7. آنکھ والے سب تھے لیکن دیدہ ور کوئی نہ تھاکارواں بھٹکا ہوا تھا راہ بر کوئی نہ تھاNadim Ashrafi Burhanpuri
  8. اب مجھے اپنا بنانے کے لئے مت آناپھر کوئی خواب دکھانے کے لئے مت آناNadim Ashrafi Burhanpuri
  9. جو تیرے نقش کف پا پہ چل گئے ہوتےتو مہر و ماہ سے آگے نکل گئے ہوتےNadim Ashrafi Burhanpuri
  10. درد پر پیار آیا چوٹ بھی اچھی لگیآج پہلی بار مجھ کو زندگی اچھی لگیNadim Ashrafi Burhanpuri
  11. دل کو پہلے لہو لہو کرناپھر کسی کی تم آرزو کرناNadim Ashrafi Burhanpuri
  12. رنج و غم کی جب مرے دل میں فراوانی نہ تھیجی رہا تھا میں مگر جینے میں آسانی نہ تھیNadim Ashrafi Burhanpuri
  13. زہے نصیب کہ ان کی کوئی خبر آئیاندھیرا دور ہوا روشنی نظر آئیNadim Ashrafi Burhanpuri
  14. شکایت غم لیل و نہار کیسے کروںمیں خود کو اپنی نگاہوں میں خار کیسے کروںNadim Ashrafi Burhanpuri
  15. گل میں شفق میں چاند میں تاروں میں کھو گئےوہ ایک آپ ہیں جو ہزاروں میں کھو گئےNadim Ashrafi Burhanpuri
  16. نہ باہر ہی لگے ہے دل نہ گھر جانے کو جی چاہےسمجھ میں کچھ نہیں آتا کدھر جانے کو جی چاہےNadim Ashrafi Burhanpuri
  17. ہاں ان سے مری طرز ملاقات الگ ہےیہ درد یہ سوزش یہ خلش اور یہ آنسوNadim Ashrafi Burhanpuri
  18. ازل سے بس یہی عالم ہے کیا کیا جائےکبھی خوشی ہے کبھی غم ہے کیا کیا جائےNafees Ahmad Sahar
  19. ایک ہی مضمون کے کتنے ہیں بابخون آنسو چیخ وحشت اضطرابNafees Ahmad Sahar
  20. تم مرے خواب پریشاں کا اثر دیکھو تومضمحل سارا گلستاں ہے ادھر دیکھو توNafees Ahmad Sahar
  21. تیرگی ہو تو کیا کرے کوئیشمع بن کر جلا کرے کوئیNafees Ahmad Sahar
  22. جسم اپنا ہے جاں پرائی ہےبات اب کچھ سمجھ میں آئی ہےNafees Ahmad Sahar
  23. حکومت ذہن و دل پہ جب سے قائم ہے اندھیروں کیاڑانیں بھول بیٹھی ہیں نئی نسلیں پرندوں کیNafees Ahmad Sahar
  24. خیال شب کبھی فکر سحر میں رہتا ہےتمام عمر پرندہ سفر میں رہتا ہےNafees Ahmad Sahar
  25. رہو گے بزم ہستی میں یوں ہی بے دست و پا کب تککرو گے تم زمانے سے مقدر کا گلہ کب تکNafees Ahmad Sahar
  26. مضطرب اور ہوا ذوق نظر آخر شببند امید کے سب ہو گئے در آخر شبNafees Ahmad Sahar
  27. نہ گل کھلے ہیں نہ گردش میں جام آیا ہےیہ کیسا اب کے چمن میں نظام آیا ہےNafees Ahmad Sahar
  28. وہ زندگی مرے نزدیک زندگی نہ ہوئیتمام عمر میسر جسے خوشی نہ ہوئیNafees Ahmad Sahar
  29. پڑی جو شعلۂ رخ پر نظر میں آگ لگیمثال طور جلا دل جگر میں آگ لگیعنایت اللہ روشن بدایونی
  30. تری گلی میں ترے جاں نثار بیٹھے ہیںنگاہ لطف کے امیدوار بیٹھے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
  31. خدا کا شکر ادا صبح و شام کرتے ہیںجو خاص بندے ہیں وہ خاص کام کرتے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
  32. دنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیںوہ دن ہی کون سا ہے کہ جو روز غم نہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
  33. زمیں کو سر پہ اٹھائے ہوئے نہ چل غافلاگر ہے ہوش تو ہشیار ہو سنبھل غافلعنایت اللہ روشن بدایونی
  34. ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیاجگر کو خون کیا دل کو داغدار کیاعنایت اللہ روشن بدایونی
  35. کس بزم میں شمع تو نہیں ہےکس جا تری گفتگو نہیں ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
  36. کیفیت دل اور ہے احوال جگر اوراک درد کی صورت ہے ادھر اور ادھر اورعنایت اللہ روشن بدایونی
  37. مال کچھ شے ہے نہ کچھ صاحب ساماں ہوناباعث فخر ہے انسان کو انساں ہوناعنایت اللہ روشن بدایونی
  38. وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھارنگ نیرنگ جہاں سے یہ بدلتے دیکھاعنایت اللہ روشن بدایونی
  39. ہر ایک کا حامی وہ مصیبت میں ہوا ہےجس کا کوئی دنیا میں نہیں اس کا خدا ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
  40. آتش سوز محبت کو بجھا سکتا ہوں میںدیدۂ پر نم سے اک دریا بہا سکتا ہوں میںQaisar Nizami
  41. تجھے بھی چین نہ آئے قرار کو ترسےچمن میں رہ کے چمن کی بہار کو ترسےQaisar Nizami
  42. تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشینظر نواز نظاروں کو تازگی بخشیQaisar Nizami
  43. تری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہےحیات بخش سہاروں کو نیند آئی ہےQaisar Nizami
  44. عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھاجلوہ آرا صرف ذات کبریا تھی میں نہ تھاQaisar Nizami
  45. کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھےتیری نظروں نے بنا ڈالا ہے افسانہ مجھےQaisar Nizami
  46. محبت باعث دیوانگی ہے اور بس میں ہوںکہ اب پیہم عنایت آپ کی ہے اور بس میں ہوںQaisar Nizami
  47. محبت کی صہبا پلانے چلا ہوںزمانے کو انساں بنانے چلا ہوںQaisar Nizami
  48. منحرف مجھ سے اک زمانہ ہےبدنصیبی کا کیا ٹھکانہ ہےQaisar Nizami
  49. نظام گلشن ہستی بدل کے دم لیں گےحدود رنج و الم سے نکل کے دم لیں گےQaisar Nizami
  50. نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوںسکوں نصیب سہاروں سے بات کرتا ہوںQaisar Nizami