تری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہے
Qaisar Nizamiتری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہے
حیات بخش سہاروں کو نیند آئی ہے
ترے بغیر تیرے انتظار سے تھک کر
شب فراق کے ماروں کو نیند آئی ہے
سحر قریب ہے ارماں اداس دل غمگیں
فلک پہ چاند ستاروں کو نیند آئی ہے
ترے جمال سے تعبیر تھے جو الفت میں
اب ان حسین نظاروں کو نیند آئی ہے
ہر ایک موج ہے ساکت یم محبت کی
مرے بغیر کناروں کو نیند آئی ہے
چمن میں زحمت گلگشت آپ فرمائیں
یہ سن رہا ہوں بہاروں کو نیند آئی ہے
کہو یہ ساقی صہبا نواز سے قیصرؔ
پھر آج بادہ گساروں کو نیند آئی ہے