رنج و غم کی جب مرے دل میں فراوانی نہ تھی
Nadim Ashrafi Burhanpuriرنج و غم کی جب مرے دل میں فراوانی نہ تھی
جی رہا تھا میں مگر جینے میں آسانی نہ تھی
مجھ کو لے پہنچا جنون شوق ایسی بزم میں
جس جگہ کوئی بھی صورت جانی پہچانی نہ تھی
کس کو فرصت تھی اٹھاتا چاند کی جانب نظر
کیا ہمارے دل کے داغوں میں درخشانی نہ تھی
ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے مجھ پر کیا کہوں
جب مری آواز اپنوں نے بھی پہچانی نہ تھی
یہ حقیقت تھی کہ تھا میرے تصور کا کمال
دور تیرے سنگ در سے میری پیشانی نہ تھی
ایسا لگتا ہے کہ کوئی انقلاب آنے کو ہے
ورنہ پہلے تو نظر کچھ اتنی دیوانی نہ تھی