شکایت غم لیل و نہار کیسے کروں
Nadim Ashrafi Burhanpuriشکایت غم لیل و نہار کیسے کروں
میں خود کو اپنی نگاہوں میں خار کیسے کروں
یہ زندگی بڑی نعمت ہے مانتا ہوں مگر
یہ بے وفا نہیں یہ اعتبار کیسے کروں
تجھے ہے ناز جفا پر مجھے وفا کی طلب
میں اپنی ذات میں تیرا شمار کیسے کروں
کہیں بہار کے آثار تو نظر آئیں
گریباں اپنا ابھی تار تار کیسے کروں
قدم قدم پہ یہاں نفرتوں کے ڈیرے ہیں
فضائے صحن چمن خوش گوار کیسے کروں
ابھی تو دل کو نئے رنج و غم کی خواہش ہے
اے زندگی میں تجھے لالہ زار کیسے کروں
وہ ہے وفائی کا احساس کر کے نادمؔ ہے
مسرتوں سے اسے ہم کنار کیسے کروں