کس بزم میں شمع تو نہیں ہے
عنایت اللہ روشن بدایونیکس بزم میں شمع تو نہیں ہے
کس جا تری گفتگو نہیں ہے
کس رنگ میں جلوہ گر نہیں تو
کس پھول میں تیری بو نہیں ہے
ہے پردۂ چشم پردۂ دید
کس وقت وہ روبرو نہیں ہے
دیدار کی ہے فقط تمنا
دل میں اور آرزو نہیں ہے
خوبی تری جلوہ گر ہے دل میں
یہ آئنہ عیب جو نہیں ہے
سامان نشاط سب ہیں بے کار
محفل میں جو ایک تو نہیں ہے