آنکھ والے سب تھے لیکن دیدہ ور کوئی نہ تھا

Nadim Ashrafi Burhanpuri

آنکھ والے سب تھے لیکن دیدہ ور کوئی نہ تھا

کارواں بھٹکا ہوا تھا راہ بر کوئی نہ تھا

میں تو سمجھا تھا کہ دنیا چل رہی ہے ساتھ ساتھ

مڑ کے جب دیکھا تو میرا ہم سفر کوئی نہ تھا

کس سے کہتے ہم تری محفل میں اپنا راز دل

یوں تو کہنے کو سب اپنے تھے مگر کوئی نہ تھا

تم سے پہلے تیرگی میں گم تھی ساری کائنات

تم نہ تھے تو واقف نور سحر کوئی نہ تھا

شمع تھی پروانہ تھا میں تھا تمہاری یاد تھی

کیسے کہہ دوں ہجر کی شب میرے گھر کوئی نہ تھا

کوئی لیتا کیسے نادمؔ میرے زخموں کی خبر

تھے سبھی ہمدرد لیکن معتبر کوئی نہ تھا