منحرف مجھ سے اک زمانہ ہے
Qaisar Nizamiمنحرف مجھ سے اک زمانہ ہے
بدنصیبی کا کیا ٹھکانہ ہے
بہکی جاتی ہے چشم زاہد بھی
ہر ادا تیری والہانہ ہے
کیوں جبیں اب ہے مائل سجدہ
کیا یہیں ان کا آستانہ ہے
ظرف میکش کو تاڑ لیتی ہے
چشم ساقی کا کیا ٹھکانا ہے
والیان چمن نہیں واقف
برق آسا ہر آشیانہ ہے
اب تو رسوائیاں یقینی ہیں
ان کے لب پر مرا فسانہ ہے
سوئے کعبہ چلے تو ہو قیصرؔ
راہ میں اک شراب خانہ ہے